Hi There, I am

My Photo

Naveed Ullah

I am naveed Ullah a Blogger , social media marketing expert and SEO (Search engine optimization) specialist. i am working on internet from 2014 and still running many successful blogs and websites on internet

Social media

Instagram

پاکستان کا تعلیمی نظام ہمیں کیا سکھاتا ہے ؟ اخبار حق اسلام آباد


دنیا میں تعلیم ہی وہ واحد اکائی ہے جو قوموں کو سنوارتی ہیں ۔ تعلیم ہی وہ واحد ہتھیار ہیں جو قوموں میں شعور بیدار کر دیتی ہیں ۔ بدقسمتی سے پاکستانی تعلیمی نظام میں یہ خوبیاں سرے سے موجود ہی نہیں ۔ کبھی کبھار تو میں سوچتا ہوں کہ کہیں ایک سازش کے تخت ہمیں یہ تعلیمی نظام تو فراہم نہیں کیا گیا ؟ یہ بات ٹھیک ہیں کہ ہم نے بھی کئی ہیرے پیدا کئے مگر بدقسمتی سے مستقل طور پر ہم اس روش کو برقرار نہ رکھ سکے ۔ بیرون ممالک میں تعلیم کا حصول نوکری حاصل کرنے کیلئے نہیں کیا جاتا بلکہ اپنے آپ کو قابل اور باوقار انسان بننے کیلئے تعلیم حاصل کی جاتی ہیں ۔ یہاں پاکستان میں تعلیم کا حصول نوکری کے حصول کیلئے مشروط کر دی گئی ہیں ۔ آج تک ہم پاکستانی اس بات کو نہیں سمجھ سکے کہ دنیا میں قابل ترین اور امیر ترین افراد وہی ہیں جن کے پاس اعلی تعلیم کی ڈگریاں نہیں ۔ ہم یہاں قابلیت اچھے نمبروں سے پرکتے ہیں ۔ حالانکہ ہمارے سامنے ایک زندہ مثال بل گیٹس موجود ہیں جن کو یونیورسٹی سے نکال دیا گیا ۔ آج وہ دنیا کا امیر ترین انسان ہے ۔ بل گیٹس کے مطابق مجھے یونیورسٹی ٹیچر ہمیشہ طنز میں کہا کرتے تھے کہ آپ ایک ٹرک ڈرائیور بھی نہیں بن سکتے مگر میں نے ہمت نہیں ہاری اور کچھ بن کر دیکھایا ۔ بے شک ہم حلال روزگار کی کوشش کریں مگر اپنے زندگی کا ایک مقصد بھی تو بنائیں ۔ پاکستان کا تعلیمی نظام آج کل نقل کی لپیٹ میں ہے ‘ اسی نقل کی وجہ سے طالبعلموں کو پڑھنے میں دلچسپی ہی نہ رہی ۔ ادھر ہر کمپنی اور حکومتی ادارے بندے کی قابلیت کی بجائے اس کی ڈگریوں پر نظر رکھتے ہیں اور ڈگری کا تو آپ کو خود پتہ ہے کہ آج کل جعلی ڈگریوں کا حصول بھی کچھ خاص مشکل نہیں ۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں عملی تعلیم پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی ۔ ہم صرف کتابوں کو رٹہ مارکر یاد کرلیتے ہیں۔ پریکٹیکل تعلیم کا تو یہاں کو ئی خاص انتظام ہی نہیں ۔ میں یہ مانتا ہوں کہ ہم انفرادی طور پر قابل ہیں مگر مجموعی طور پر ہمیں قابل بننے کا کوئی درس نہیں دیا جاتا ۔ بلکہ لکیر کے فقیر کے مصداق ہمیں ٹرک کے بتی کے پیچھے لگایا گیا ہیں ۔ 
نقل کا رحجان پاکستان میں اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ اب تو طلباء عملی تعلیم سے کتراتے ہیں ۔ اس رحجان نے طلباء میں سست روی پیدا کی ہیں ۔ جب تک نقل کے خلاف سخت کاروائی عمل میں نہیں لائی جاتی تب تک طلباء کیلئے پڑھنے میں کوئی دلچسپی نہیں رہے گی۔ جب وہ نقل سے پرچہ پاس کرسکتا ہیں تو پھر اس کو پڑھنے کی ضرورت کیوں پیش آئے گی؟
نقل کے علاوہ ہم نے طالبعلموں کو اس قدر کنفیوز کیا ہے کہ وہ یہ نہیں جانتے کہ کس سمت میں جائیں ۔ ہم نے یہاں کئی طرز کے تعلیمی نظام رائج کئے ہیں ۔ ایک تو انگلش میڈیم ہیں جبکہ دوسرا اردو میڈیم ہے ۔ جبکہ اس کے علاوہ کئی مضامین ایسے پڑھائے جاتے ہیں جن کی سرے سے ضرورت ہی نہیں ۔میٹرک تک ہم انگلش اور اردو میڈیم کے جنجھٹ سے چھٹکارا نہیں پاتے اور انٹر میڈیٹ تک جانے کے بعد بھی یہ سلسلہ نہیں تھم جاتا۔
یہاں وطن عزیز میں بچوں کے کندھوں پر جو بھاری بوجھ ڈالا جاتا ہیں وہ کتابوں کا ہے ۔ ایک درجن کتابوں سے بھرا بیگ ہوتا ہیں جس میں کئی کاپیاں اور ساتھ ہی ساتھ سارے مضامین کی کتابیں بھی موجود ہوتی ہیں ۔ بیرون ممالک میں بچوں کو شروع میں صرف اخلاق اور طرز زندگی سکھایا جاتا ہے اور یہاں بچوں کے معصوم دماغوں میں کتابیں ٹھونسی جاتی ہیں ۔ پھر آگے بڑھ کر بچے تعلیم سے اتنے بدظن ہوجاتے ہیں کہ ان کو حصول تعلیم میں کوئی دلچسپی ہی نظر نہیں آتی ۔ 
آج کل تو پاکستانی یونیورسٹیز کا یہ حال ہیں کہ یہاں آئے روز نئے واقعات اور اسکینڈل ہوتے ہیں ۔ ہم بے شک انڈیا سے نفرت کرتے ہوگے مگر ان کے گانے اور فلمیں یونیورسٹی کی تقریبات میں ضرور چلاتے ہیں ۔ مجھے کسی بھی ملک میں بسنے والے انسانوں سے نفرت نہیں مگر کیا ہمیں دوسروں کی پیروی کرنی چاہئے ۔ ؟ کیا ہماری اپنی کوئی ثقافت نہیں ؟ یونیورسٹیوں میں منشیات کا استعمال اتنا عام ہوچکا ہے کہ یہیں سے ہمارے معاشرے کی بگاڑ کا اندازہ لگایا جاسکتا ہیں ۔ عام طور پر تعلیم یافتہ نوجوانوں کو تہذیب
یافتہ گردانا جاتا ہیں مگر یہاں تو معاملہ ہی الٹا چلا آرہا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ منشیات کے استعمال پر یونیورسٹیوں میں پابندی کیوں نہیں لگتی ؟ اور ہمارے تعلیمی نظام میں ایسی کوئی خوبی کیوں نہیں جو طلباء کو اس طرح کے کاموں سے روک سکے ۔ ہم تب تک پاکستان میں صحیح تعلیمی انقلاب نہیں لاسکتے جب تک ہم پورے ملک میں ایک ہی تعلیمی نظام نافذ نہیں کرتے ۔ اس حوالے سے سنجیدگی کے ساتھ اقدامات کرنے ہوگے اور طلباء کو عملی تعلیم سکھانا ہوگا۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ ملکی حالات کے مطابق ہمیں ایک ذمہ دار شہری کی طرح رہنا ہوگا جو بدقسمتی سے ہمار ا تعلیمی نظام ہمیں نہیں سکھاتا۔ 
نوید غازی

میرا یہ تحریر اخبار حق اسلام آباد میں بتاریخ 27اپریل 2017 شائع کیا گیا ۔


قبائلی علاقوں کی تباہی کے ذمہ دارکون ؟


فاٹا سالوں سے شورش زدہ ہے اور ابھی تک حالات تسلی بخش نہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ضرب عضب کے بعد فاٹا اور قبائلی علاقہ جات میں کافی تبدیلی آئی مگر ساتھ ہی ساتھ ایک تباہی کا طوفان بھی برپا ہوا۔ اس تباہی کے بیچ آج بھی ہم یہ سوچنے سے قاصر ہیں کہ یہ سب کچھ کیوں ہوا؟ اور اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے ۔دراصل قوموں کی تباہی میں افراد قصور وار نہیں ہوتے بلکہ من حیث القوم جب غلط راستے کا انتخاب کیا جاتا ہے تب حالات اس نہج پر پہنچ جاتے ہیں۔آج کل کے اخبارات میں آپ نے دیکھاہوگا کہ وزیرستان کے بے گھر قبائل کیسے درناک حالات کا سامنا کررہے ہیں ۔ 2014میں شروع ہونے والے ضرب عضب آپریشن کا یہ تیسرا سال پورا ہونے کو ہے مگر ابھی تک قبائل اپنے علاقوں میں مکمل واپسی نہیں کرچکے ہیں ۔ ضرب عضب کے بعد قبائل نے جو نقصان اٹھایا وہ ناقابل تلافی ہے مگر اس امید پر کہ آئندہ کیلئے امن فراہم کیا جائے گا‘ سکون ہوگا ‘ عوام کو جدید سہولیات میسر ہوں گے لوگوں نے صبر سے کام لیا ۔ ضرب عضب سے پہلے اور ضرب عضب کے بعد دونوں وقتوں میں قبائلی عوام کا بھاری جانی و مالی نقصان ہوا ۔ پورے فاٹا کا یہ حال ہے کہ یہاں ابھی تک بنیادی سہولیات میسر نہیں ۔ فاٹا کی اس تباہی میں کئی عوامل نے کردار ادا کیا ۔ فاٹا کا جو سب سے بڑا مسئلہ ہے وہ تعلیمی سہولیات کا فقدان ہے ۔ تعلیم کی کمی کی وجہ سے یہاں بیروزگاری بھی عروج پر ہے ۔ابھی تک فاٹا میں تعلیمی سرگرمیاں بحال نہیں اور تعلیمی سرگرمیوں کیلئے حکومت کو بہت کچھ کرنا پڑے گا۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ اس حوالے سے ماضی اور حال میں کافی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ فاٹا اور قبائلی علاقہ جات کا دوسرا بڑا مسئلہ صحیح رہنماؤں کی کمی ہیں ۔ بدقسمتی سے فاٹا پر ایک مفاد پرست ٹولہ مسلط کیا گیا ہے جن کو ملکان کہا جاتا ہیں ۔ یہ ملک صاحبان رہنمائی کی بجائے اپنے مفادات میں زیادہ دلچسپی دکھاتے ہیں ۔ ان میں سے اکثر ملکان غیر تعلیم یافتہ ہوتے ہیں اور پولیٹیکل ایجنٹ کی ہر قانونی و غیر قانونی حکم کو بلا ججھک ماننے میں ہی خیر سمجھتے ہیں ۔علاقائی زبان میں ان لوگوں کو ’’مشران‘‘ کہا جاتا ہیں ۔ حکام بالا کے ساتھ جب یہ مشران صاحبان میٹنگ کرتے ہیں تو ان کے دماغ پر پہلے سے ہی ان کا رعب اور دبدبہ پڑا رہتا ہے ۔ اور پھر یہ صاحبان وہاں پہنچ کر صرف جی جی پر گزارہ کرلیتے ہیں ۔ امید ہے ہمارا مستقبل نوجوانوں اور تعلیم یافتہ افراد کے ہاتھوں میں ہوگا ۔ مگر سوائے چند نامور ملک صاحبان کے کسی میں بھی یہ جراء ت نہیں کہ یہ سرکار کے سامنے اپنے مسائل کو صحیح طریقے سے اجاگر کرسکیں۔ سرکار کو بھی ان ضمیر فروشوں کو خاموش کرنے کا گر معلوم ہے اور وقتا فوقتا ان کیلئے سکیمیں منظور کروائی جاتی ہیں ۔قبائلی علاقوں میں آج بھی سکولوں اور ہسپتالوں کی منظوری ان لوگوں کیلئے کی جاتی ہیں جو حکومتی کارندوں کا جیب گرم کر رکھے ۔ آج بھی سینکڑوں سکول اور ہسپتال اسی انا کی وجہ سے بند پڑے ہیں۔ خود میرے علاقے کے سکول ویران پڑے ہیں ۔ اور تعلیم کے خواہش مند طلباء علاقے میں تعلیمی درسگاہیں ہونے کے باوجود بھی شہروں کا رخ کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ملکان صاحبان کو تعلیم سے کوئی عرض نہیں وہ تو بس گھر بیٹھے سکول فنڈ زہڑپ کرلیتے ہیں۔ جب تک قبائلی علاقوں میں مستحق افراد کو آگے نہیں لایا جاتا ‘ نوجوانوں کیلئے مواقع فراہم نہیں کئے جاتے تب تک فاٹا اور اس پورے ریجن میں امن کا قیام ممکن ہی نہیں ۔ دیرپا امن کیلئے عوام میں شعور لانا ہوگا ۔ اور شعور کیلئے علم کا حصول آسان بنانا ہوگا۔ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو آگے آنا ہوگا۔مشران اور ملکان صاحبان کو چاہئے کہ حکومتی کارندوں کی خوشامد کی بجائے وہ اپنے غریب عوام کے حقوق کیلئے لڑیں ۔ آج ہم بحثیت قوم جن مشکلات کا سامنا کررہے ہیں یہ ہماری مجموعی غفلت کا نتیجہ ہیں ۔ اسی لئے ہم سب کو اپنے گریبانوں میں جھانکنا ہوگا۔ ماضی میں سرزد ہونے والی غلطیوں کا ازالہ یہ ہے کہ ہم اپنی غلطیوں کو تسلیم کریں ۔ اتحاد و اتفاق اور امن و بھائی چارے کیلئے ہم سب کو اپنے اپنے حصے کا کام کرنا ہوگا۔ اسی میں ہماری بھلائی ہیں.
نوٹ :یہ تحریر یاغستان ڈاٹ کام پر پہلے ہی میرے نام سے شائع کیا جاچکا ہے۔ اس لئے یہ ان کی اجازت سے پوسٹ کیا جاتا ہے۔

بنوں جانی خیل میں تعلیمی اداروں کا ابتر صورتحال


تعلیم کا حصول ہر آزاد شہری کا حق ہے۔ جمہوری ریاستوں میں یہ ملکی ترقی کا اہم ستون سمجھا جاتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں تعلیم کا حصول آسان بنانے کیلئے حکومتیں کافی سرگرم رہتی ہیں ۔ پاکستان میں تعلیم کا حصول جہاں مشکل بنادیا گیا ہے وہی تعلیمی معیار بھی کافی کم ہے۔ بنوں کا علاقہ جانی خیل کافی عرصے سے شورش زدہ ہے ۔ اور یہی وجہ ہیں کہ باقی شعبوں کے ساتھ ساتھ تعلیمی ادارے بھی بدترین صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ علاقے میں جہاں سرکاری سکول غیر فعال ہیں وہی پر حکومتی کارکردگی بھی کافی مایوس کن ہے ۔ علاقے میں طالبات کیلئے محتص سکول تو باالکل بند پڑے ہیں جبکہ بوائز سکولز میں بھی ٹیچر صاحبان ذمہ داریاں ادا کرنے سے نالاں ہیں۔اکثر اساتذہ مختلف خیلوں بہانوں سے ڈیوٹیاں کرنے سے جان چھڑاتے ہیں ۔یا پھر کئی اساتذہ جو جانی خیل سے باہر کے رہائشی ہیں وہ بدامنی کا بہانہ بناکر ڈیوٹی سے صاف انکاری ہے۔ طالبات کیلئے بنائے گئے سکول تو مکمل طور پر بند پڑے ہیں ۔ کچھ لوگ قبائلی رسم و رواج کی وجہ سے طالبات کو سکول میں داخل نہیں کرتے ہیں مگر سکول مالک مکان صاحبان تنخواہیں بلا ناغہ لیتے ہیں ۔ افسوس کا مقام تو اس بات پر ہیں کہ جو استانیاں ان سکولوں پر تعنیات ہے وہ بھی ذمہ داریوں سے خود کو مبراء سمجھتے ہیں ۔
اس حوالے سے مختلف ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ایجوکیشن افسران معائنے کے نام پر بھاری رشوت بھی لیتے ہیں ۔ اور سکول کا معائنہ کئے بغیر جعلی رپورٹس بنالیتے ہیں۔ کئی سکولوں میں تعداد کم ہے مگر سکول فنڈز اور دوسرے لوازمات پورے کرنے کیلئے تعداد زیادہ لکھا جاتا ہے ۔علاقے کا ایجوکیشن آفیسر ڈیوٹیاں سر انجام نہ دینے والے اساتذہ کے خلاف کاروائی کرنے سے گریزاں ہیں ۔ جبکہ شفقت بھرے ہاتھوں سے ان اساتذہ کی حوصلہ افزائی بھی کی جاتی ہیں۔ سکولوں میں تعنیات کلاس فور ملازمین کی اکثریت بیرون ممالک محنت مزدوری کررہے ہیں اور ان کے اقرباء یہاں مفت کی تنخواہیں ہڑپ کرلیتے ہیں ۔ اس کی روک تھام کیلئے پی ٹی آئی حکومت نے مانیٹرنگ نظام متعارف کروایا مگر ہمارے علاقے پر اس کا بھی کوئی مثبت اثر نہیں پڑا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ مانیٹرنگ ٹیمیں یہاں آتے نہیں اور اگر آتے بھی ہیں تو بغیر کسی نتیجے کے واپس جاتے ہیں۔ مانیٹرنگ ٹیموں پر مجھے کوئی اعتراض نہیں مگر علاقے کا زمینی صورتحال کچھ اس طرح سے ہیں کہ مانیٹرنگ ٹیمیں بھی بے بس نظر آتی ہیں ۔ 
سرکاری سکولوں کی غیر فغالیت کی وجہ سے کئی پرائیویٹ سکول علاقے میں سرگرم ہوچکے ہیں ۔ اور یہ تعلیمی ادارے طلباء سے بھاری فیسیں بھی لیتے ہیں ۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ سرکاری سکولوں کی موجودگی میں بھی لوگوں کو تعلیمی لحاظ سے پرائیویٹ سکولوں پر اعتماد زیادہ ہیں ۔ ضرورت اب اس امر کی ہیں کہ حکومت وقت کو اس علاقے پر خصوصی توجہ دینی ہوگی ، سرکاری سکولوں میں مانیٹرنگ سسٹم کے ساتھ ساتھ حکومت کو چاہئے کہ مالک مکان کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ ڈیوٹی سے غفلت برتنے والے اساتذہ کو رپورٹ کریں ۔ اور حکومت کو صورتحال سے آگاہ رکھیں۔ یہاں کئی سکول مالکان اساتذہ سے ڈیوٹی نہ کرنے پر رشوت لیتے ہیں اور ڈیوٹی سے ان کو مبراء کیا جاتا ہے۔سکول کا پراگرس رپورٹ دینا مالک مکان کی ذمہ داری ہیں ۔ جس طرح سے اوپر کی سطروں میں ذکر کیا جاچکا ہیں کہ ترقی کیلئے تعلیم کا حصول آسان بنانا ہوگا ۔ تو اس مقصد کو پورا کرنے کیلئے حکومت کو سنجیدگی کے ساتھ قدم اٹھانا ہوگا۔یہ مسئلہ صرف بنوں جانی خیل تک محدود نہیں بلکہ بکاخیل ‘ نرمی خیل ‘ اور دوسرے دیہاتی علاقوں میں بھی بالکل اسی طرح کا صورتحال ہیں ۔
قبائلی علاقہ جات ویسے بھی پسماندہ ہیں اور اوپر سے تعلیمی صورتحا ل کو خراب کرنے میں ہمارے اپنے ہی ملوث ہیں ۔غریب لوگ آج بھی سرکاری مدد کے منتظر ہیں ۔ حکومت وقت کو مندجہ بالا مسائل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔ تاکہ آئندہ آنے والی نسلوں کا مستقبل محفوظ بنابا جاسکے ۔ 

Best Urdu poetry images for Facebook 2017

Here in this post i am going to share some of the best poetry images which you can use to share on Facebook. Its the most important thing to share with your friends. here we have something for you . 


Another great poetry collection for all the poetry lovers. 

The best Facebook cover photos for You. you can change your cover photo into an amazing poetry image. 

a great piece from azad Ahmad.


Best Islamic status for Facebook in Urdu

1: Jumma Mubarik Status update For Facebook

below is a jumma mubarik status update for Facebook which you can share with friends. Jumma is a holy day in islam just because of its importance in the history. Prophet Muhammad saw (PBUH) said that Jumma is The best one From all the days in a week . 


2: Don't Happy On getting something of this World 

This is Not the world of happiness . its a temporary life which you should spent in the obedience of Allah . Don't happy on getting something of this fake world. This is one of the best quote for Facebook in Urdu.


3: Life will be better If You are happy But will Be greater if someone is happy Because of you 


4: Golden Words of Our prophet Muhammad saw (PBUH)

our beloved Prophet Muhammad saw is the role model for Us. He was one of the great Human being and the one who took us into the right Path . The messenger of Allah who sacrificed for the deen E Islam. 


Pakistani funny pictures collection of 2017

Pakistan Is a very interesting country as compare to the other neighbors . Pakistan has a Unique place in the Fun. we have Good comedians But some pictures which we are going to share are more important the comedy dramas Etc.
Lets have a Look on all That. 


1: Enjoying Summer in refrigerator


Pakistan funny 2017

2: I cant write the correct spelling


3: Baba Kartoos shah 


4: Shehzadi Naswar




5: Imran khan Change has to come