Sunday, March 26, 2017

بنوں جانی خیل میں تعلیمی اداروں کا ابتر صورتحال


تعلیم کا حصول ہر آزاد شہری کا حق ہے۔ جمہوری ریاستوں میں یہ ملکی ترقی کا اہم ستون سمجھا جاتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں تعلیم کا حصول آسان بنانے کیلئے حکومتیں کافی سرگرم رہتی ہیں ۔ پاکستان میں تعلیم کا حصول جہاں مشکل بنادیا گیا ہے وہی تعلیمی معیار بھی کافی کم ہے۔ بنوں کا علاقہ جانی خیل کافی عرصے سے شورش زدہ ہے ۔ اور یہی وجہ ہیں کہ باقی شعبوں کے ساتھ ساتھ تعلیمی ادارے بھی بدترین صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ علاقے میں جہاں سرکاری سکول غیر فعال ہیں وہی پر حکومتی کارکردگی بھی کافی مایوس کن ہے ۔ علاقے میں طالبات کیلئے محتص سکول تو باالکل بند پڑے ہیں جبکہ بوائز سکولز میں بھی ٹیچر صاحبان ذمہ داریاں ادا کرنے سے نالاں ہیں۔اکثر اساتذہ مختلف خیلوں بہانوں سے ڈیوٹیاں کرنے سے جان چھڑاتے ہیں ۔یا پھر کئی اساتذہ جو جانی خیل سے باہر کے رہائشی ہیں وہ بدامنی کا بہانہ بناکر ڈیوٹی سے صاف انکاری ہے۔ طالبات کیلئے بنائے گئے سکول تو مکمل طور پر بند پڑے ہیں ۔ کچھ لوگ قبائلی رسم و رواج کی وجہ سے طالبات کو سکول میں داخل نہیں کرتے ہیں مگر سکول مالک مکان صاحبان تنخواہیں بلا ناغہ لیتے ہیں ۔ افسوس کا مقام تو اس بات پر ہیں کہ جو استانیاں ان سکولوں پر تعنیات ہے وہ بھی ذمہ داریوں سے خود کو مبراء سمجھتے ہیں ۔
اس حوالے سے مختلف ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ایجوکیشن افسران معائنے کے نام پر بھاری رشوت بھی لیتے ہیں ۔ اور سکول کا معائنہ کئے بغیر جعلی رپورٹس بنالیتے ہیں۔ کئی سکولوں میں تعداد کم ہے مگر سکول فنڈز اور دوسرے لوازمات پورے کرنے کیلئے تعداد زیادہ لکھا جاتا ہے ۔علاقے کا ایجوکیشن آفیسر ڈیوٹیاں سر انجام نہ دینے والے اساتذہ کے خلاف کاروائی کرنے سے گریزاں ہیں ۔ جبکہ شفقت بھرے ہاتھوں سے ان اساتذہ کی حوصلہ افزائی بھی کی جاتی ہیں۔ سکولوں میں تعنیات کلاس فور ملازمین کی اکثریت بیرون ممالک محنت مزدوری کررہے ہیں اور ان کے اقرباء یہاں مفت کی تنخواہیں ہڑپ کرلیتے ہیں ۔ اس کی روک تھام کیلئے پی ٹی آئی حکومت نے مانیٹرنگ نظام متعارف کروایا مگر ہمارے علاقے پر اس کا بھی کوئی مثبت اثر نہیں پڑا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ مانیٹرنگ ٹیمیں یہاں آتے نہیں اور اگر آتے بھی ہیں تو بغیر کسی نتیجے کے واپس جاتے ہیں۔ مانیٹرنگ ٹیموں پر مجھے کوئی اعتراض نہیں مگر علاقے کا زمینی صورتحال کچھ اس طرح سے ہیں کہ مانیٹرنگ ٹیمیں بھی بے بس نظر آتی ہیں ۔ 
سرکاری سکولوں کی غیر فغالیت کی وجہ سے کئی پرائیویٹ سکول علاقے میں سرگرم ہوچکے ہیں ۔ اور یہ تعلیمی ادارے طلباء سے بھاری فیسیں بھی لیتے ہیں ۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ سرکاری سکولوں کی موجودگی میں بھی لوگوں کو تعلیمی لحاظ سے پرائیویٹ سکولوں پر اعتماد زیادہ ہیں ۔ ضرورت اب اس امر کی ہیں کہ حکومت وقت کو اس علاقے پر خصوصی توجہ دینی ہوگی ، سرکاری سکولوں میں مانیٹرنگ سسٹم کے ساتھ ساتھ حکومت کو چاہئے کہ مالک مکان کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ ڈیوٹی سے غفلت برتنے والے اساتذہ کو رپورٹ کریں ۔ اور حکومت کو صورتحال سے آگاہ رکھیں۔ یہاں کئی سکول مالکان اساتذہ سے ڈیوٹی نہ کرنے پر رشوت لیتے ہیں اور ڈیوٹی سے ان کو مبراء کیا جاتا ہے۔سکول کا پراگرس رپورٹ دینا مالک مکان کی ذمہ داری ہیں ۔ جس طرح سے اوپر کی سطروں میں ذکر کیا جاچکا ہیں کہ ترقی کیلئے تعلیم کا حصول آسان بنانا ہوگا ۔ تو اس مقصد کو پورا کرنے کیلئے حکومت کو سنجیدگی کے ساتھ قدم اٹھانا ہوگا۔یہ مسئلہ صرف بنوں جانی خیل تک محدود نہیں بلکہ بکاخیل ‘ نرمی خیل ‘ اور دوسرے دیہاتی علاقوں میں بھی بالکل اسی طرح کا صورتحال ہیں ۔
قبائلی علاقہ جات ویسے بھی پسماندہ ہیں اور اوپر سے تعلیمی صورتحا ل کو خراب کرنے میں ہمارے اپنے ہی ملوث ہیں ۔غریب لوگ آج بھی سرکاری مدد کے منتظر ہیں ۔ حکومت وقت کو مندجہ بالا مسائل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔ تاکہ آئندہ آنے والی نسلوں کا مستقبل محفوظ بنابا جاسکے ۔ 
Previous Post
Next Post

میرا نام نوید غازیؔ ہے۔ تعلق خیبر پختونخواہ کے شہر بنوں کے علاقے جانی خیل سے ہیں ۔ لکھنے کا شوق ہیں مگر کسی نے گھاس نہیں ڈالا تو سوچا دل کا بڑاس بلاگ پر نکالو ۔ اس بلاگ کا مقصد اپنے خیالات سے عوام کو آگاہ کرنا ہیں ۔ اصلاح میرا مقصد ہیں مگر پھر بھی اگر کسی کو میری باتیں بری لگتی ہیں تو پھر دل پر پتھر رکھ کر مجھے برداشت کریں ۔ غازی نام میں نے صرف ایک اچھے پہچان کیلئے لکھا ہیں اس لئے دل پر نہ لیں ۔ بہرحال رابطہ کیلئے میرے بلاگ میں رابطہ کا صفحہ موجود ہے آپ بلا ججھک رابطہ کرسکتے ہیں ۔

Related Posts

0 comments: