Sunday, March 26, 2017

قبائلی علاقوں کی تباہی کے ذمہ دارکون ؟


فاٹا سالوں سے شورش زدہ ہے اور ابھی تک حالات تسلی بخش نہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ضرب عضب کے بعد فاٹا اور قبائلی علاقہ جات میں کافی تبدیلی آئی مگر ساتھ ہی ساتھ ایک تباہی کا طوفان بھی برپا ہوا۔ اس تباہی کے بیچ آج بھی ہم یہ سوچنے سے قاصر ہیں کہ یہ سب کچھ کیوں ہوا؟ اور اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے ۔دراصل قوموں کی تباہی میں افراد قصور وار نہیں ہوتے بلکہ من حیث القوم جب غلط راستے کا انتخاب کیا جاتا ہے تب حالات اس نہج پر پہنچ جاتے ہیں۔آج کل کے اخبارات میں آپ نے دیکھاہوگا کہ وزیرستان کے بے گھر قبائل کیسے درناک حالات کا سامنا کررہے ہیں ۔ 2014میں شروع ہونے والے ضرب عضب آپریشن کا یہ تیسرا سال پورا ہونے کو ہے مگر ابھی تک قبائل اپنے علاقوں میں مکمل واپسی نہیں کرچکے ہیں ۔ ضرب عضب کے بعد قبائل نے جو نقصان اٹھایا وہ ناقابل تلافی ہے مگر اس امید پر کہ آئندہ کیلئے امن فراہم کیا جائے گا‘ سکون ہوگا ‘ عوام کو جدید سہولیات میسر ہوں گے لوگوں نے صبر سے کام لیا ۔ ضرب عضب سے پہلے اور ضرب عضب کے بعد دونوں وقتوں میں قبائلی عوام کا بھاری جانی و مالی نقصان ہوا ۔ پورے فاٹا کا یہ حال ہے کہ یہاں ابھی تک بنیادی سہولیات میسر نہیں ۔ فاٹا کی اس تباہی میں کئی عوامل نے کردار ادا کیا ۔ فاٹا کا جو سب سے بڑا مسئلہ ہے وہ تعلیمی سہولیات کا فقدان ہے ۔ تعلیم کی کمی کی وجہ سے یہاں بیروزگاری بھی عروج پر ہے ۔ابھی تک فاٹا میں تعلیمی سرگرمیاں بحال نہیں اور تعلیمی سرگرمیوں کیلئے حکومت کو بہت کچھ کرنا پڑے گا۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ اس حوالے سے ماضی اور حال میں کافی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ فاٹا اور قبائلی علاقہ جات کا دوسرا بڑا مسئلہ صحیح رہنماؤں کی کمی ہیں ۔ بدقسمتی سے فاٹا پر ایک مفاد پرست ٹولہ مسلط کیا گیا ہے جن کو ملکان کہا جاتا ہیں ۔ یہ ملک صاحبان رہنمائی کی بجائے اپنے مفادات میں زیادہ دلچسپی دکھاتے ہیں ۔ ان میں سے اکثر ملکان غیر تعلیم یافتہ ہوتے ہیں اور پولیٹیکل ایجنٹ کی ہر قانونی و غیر قانونی حکم کو بلا ججھک ماننے میں ہی خیر سمجھتے ہیں ۔علاقائی زبان میں ان لوگوں کو ’’مشران‘‘ کہا جاتا ہیں ۔ حکام بالا کے ساتھ جب یہ مشران صاحبان میٹنگ کرتے ہیں تو ان کے دماغ پر پہلے سے ہی ان کا رعب اور دبدبہ پڑا رہتا ہے ۔ اور پھر یہ صاحبان وہاں پہنچ کر صرف جی جی پر گزارہ کرلیتے ہیں ۔ امید ہے ہمارا مستقبل نوجوانوں اور تعلیم یافتہ افراد کے ہاتھوں میں ہوگا ۔ مگر سوائے چند نامور ملک صاحبان کے کسی میں بھی یہ جراء ت نہیں کہ یہ سرکار کے سامنے اپنے مسائل کو صحیح طریقے سے اجاگر کرسکیں۔ سرکار کو بھی ان ضمیر فروشوں کو خاموش کرنے کا گر معلوم ہے اور وقتا فوقتا ان کیلئے سکیمیں منظور کروائی جاتی ہیں ۔قبائلی علاقوں میں آج بھی سکولوں اور ہسپتالوں کی منظوری ان لوگوں کیلئے کی جاتی ہیں جو حکومتی کارندوں کا جیب گرم کر رکھے ۔ آج بھی سینکڑوں سکول اور ہسپتال اسی انا کی وجہ سے بند پڑے ہیں۔ خود میرے علاقے کے سکول ویران پڑے ہیں ۔ اور تعلیم کے خواہش مند طلباء علاقے میں تعلیمی درسگاہیں ہونے کے باوجود بھی شہروں کا رخ کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ملکان صاحبان کو تعلیم سے کوئی عرض نہیں وہ تو بس گھر بیٹھے سکول فنڈ زہڑپ کرلیتے ہیں۔ جب تک قبائلی علاقوں میں مستحق افراد کو آگے نہیں لایا جاتا ‘ نوجوانوں کیلئے مواقع فراہم نہیں کئے جاتے تب تک فاٹا اور اس پورے ریجن میں امن کا قیام ممکن ہی نہیں ۔ دیرپا امن کیلئے عوام میں شعور لانا ہوگا ۔ اور شعور کیلئے علم کا حصول آسان بنانا ہوگا۔ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو آگے آنا ہوگا۔مشران اور ملکان صاحبان کو چاہئے کہ حکومتی کارندوں کی خوشامد کی بجائے وہ اپنے غریب عوام کے حقوق کیلئے لڑیں ۔ آج ہم بحثیت قوم جن مشکلات کا سامنا کررہے ہیں یہ ہماری مجموعی غفلت کا نتیجہ ہیں ۔ اسی لئے ہم سب کو اپنے گریبانوں میں جھانکنا ہوگا۔ ماضی میں سرزد ہونے والی غلطیوں کا ازالہ یہ ہے کہ ہم اپنی غلطیوں کو تسلیم کریں ۔ اتحاد و اتفاق اور امن و بھائی چارے کیلئے ہم سب کو اپنے اپنے حصے کا کام کرنا ہوگا۔ اسی میں ہماری بھلائی ہیں.
نوٹ :یہ تحریر یاغستان ڈاٹ کام پر پہلے ہی میرے نام سے شائع کیا جاچکا ہے۔ اس لئے یہ ان کی اجازت سے پوسٹ کیا جاتا ہے۔

0 comments:

Post a Comment