Friday, April 28, 2017

پاکستان کا تعلیمی نظام ہمیں کیا سکھاتا ہے ؟ اخبار حق اسلام آباد


دنیا میں تعلیم ہی وہ واحد اکائی ہے جو قوموں کو سنوارتی ہیں ۔ تعلیم ہی وہ واحد ہتھیار ہیں جو قوموں میں شعور بیدار کر دیتی ہیں ۔ بدقسمتی سے پاکستانی تعلیمی نظام میں یہ خوبیاں سرے سے موجود ہی نہیں ۔ کبھی کبھار تو میں سوچتا ہوں کہ کہیں ایک سازش کے تخت ہمیں یہ تعلیمی نظام تو فراہم نہیں کیا گیا ؟ یہ بات ٹھیک ہیں کہ ہم نے بھی کئی ہیرے پیدا کئے مگر بدقسمتی سے مستقل طور پر ہم اس روش کو برقرار نہ رکھ سکے ۔ بیرون ممالک میں تعلیم کا حصول نوکری حاصل کرنے کیلئے نہیں کیا جاتا بلکہ اپنے آپ کو قابل اور باوقار انسان بننے کیلئے تعلیم حاصل کی جاتی ہیں ۔ یہاں پاکستان میں تعلیم کا حصول نوکری کے حصول کیلئے مشروط کر دی گئی ہیں ۔ آج تک ہم پاکستانی اس بات کو نہیں سمجھ سکے کہ دنیا میں قابل ترین اور امیر ترین افراد وہی ہیں جن کے پاس اعلی تعلیم کی ڈگریاں نہیں ۔ ہم یہاں قابلیت اچھے نمبروں سے پرکتے ہیں ۔ حالانکہ ہمارے سامنے ایک زندہ مثال بل گیٹس موجود ہیں جن کو یونیورسٹی سے نکال دیا گیا ۔ آج وہ دنیا کا امیر ترین انسان ہے ۔ بل گیٹس کے مطابق مجھے یونیورسٹی ٹیچر ہمیشہ طنز میں کہا کرتے تھے کہ آپ ایک ٹرک ڈرائیور بھی نہیں بن سکتے مگر میں نے ہمت نہیں ہاری اور کچھ بن کر دیکھایا ۔ بے شک ہم حلال روزگار کی کوشش کریں مگر اپنے زندگی کا ایک مقصد بھی تو بنائیں ۔ پاکستان کا تعلیمی نظام آج کل نقل کی لپیٹ میں ہے ‘ اسی نقل کی وجہ سے طالبعلموں کو پڑھنے میں دلچسپی ہی نہ رہی ۔ ادھر ہر کمپنی اور حکومتی ادارے بندے کی قابلیت کی بجائے اس کی ڈگریوں پر نظر رکھتے ہیں اور ڈگری کا تو آپ کو خود پتہ ہے کہ آج کل جعلی ڈگریوں کا حصول بھی کچھ خاص مشکل نہیں ۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں عملی تعلیم پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی ۔ ہم صرف کتابوں کو رٹہ مارکر یاد کرلیتے ہیں۔ پریکٹیکل تعلیم کا تو یہاں کو ئی خاص انتظام ہی نہیں ۔ میں یہ مانتا ہوں کہ ہم انفرادی طور پر قابل ہیں مگر مجموعی طور پر ہمیں قابل بننے کا کوئی درس نہیں دیا جاتا ۔ بلکہ لکیر کے فقیر کے مصداق ہمیں ٹرک کے بتی کے پیچھے لگایا گیا ہیں ۔ 
نقل کا رحجان پاکستان میں اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ اب تو طلباء عملی تعلیم سے کتراتے ہیں ۔ اس رحجان نے طلباء میں سست روی پیدا کی ہیں ۔ جب تک نقل کے خلاف سخت کاروائی عمل میں نہیں لائی جاتی تب تک طلباء کیلئے پڑھنے میں کوئی دلچسپی نہیں رہے گی۔ جب وہ نقل سے پرچہ پاس کرسکتا ہیں تو پھر اس کو پڑھنے کی ضرورت کیوں پیش آئے گی؟
نقل کے علاوہ ہم نے طالبعلموں کو اس قدر کنفیوز کیا ہے کہ وہ یہ نہیں جانتے کہ کس سمت میں جائیں ۔ ہم نے یہاں کئی طرز کے تعلیمی نظام رائج کئے ہیں ۔ ایک تو انگلش میڈیم ہیں جبکہ دوسرا اردو میڈیم ہے ۔ جبکہ اس کے علاوہ کئی مضامین ایسے پڑھائے جاتے ہیں جن کی سرے سے ضرورت ہی نہیں ۔میٹرک تک ہم انگلش اور اردو میڈیم کے جنجھٹ سے چھٹکارا نہیں پاتے اور انٹر میڈیٹ تک جانے کے بعد بھی یہ سلسلہ نہیں تھم جاتا۔
یہاں وطن عزیز میں بچوں کے کندھوں پر جو بھاری بوجھ ڈالا جاتا ہیں وہ کتابوں کا ہے ۔ ایک درجن کتابوں سے بھرا بیگ ہوتا ہیں جس میں کئی کاپیاں اور ساتھ ہی ساتھ سارے مضامین کی کتابیں بھی موجود ہوتی ہیں ۔ بیرون ممالک میں بچوں کو شروع میں صرف اخلاق اور طرز زندگی سکھایا جاتا ہے اور یہاں بچوں کے معصوم دماغوں میں کتابیں ٹھونسی جاتی ہیں ۔ پھر آگے بڑھ کر بچے تعلیم سے اتنے بدظن ہوجاتے ہیں کہ ان کو حصول تعلیم میں کوئی دلچسپی ہی نظر نہیں آتی ۔ 
آج کل تو پاکستانی یونیورسٹیز کا یہ حال ہیں کہ یہاں آئے روز نئے واقعات اور اسکینڈل ہوتے ہیں ۔ ہم بے شک انڈیا سے نفرت کرتے ہوگے مگر ان کے گانے اور فلمیں یونیورسٹی کی تقریبات میں ضرور چلاتے ہیں ۔ مجھے کسی بھی ملک میں بسنے والے انسانوں سے نفرت نہیں مگر کیا ہمیں دوسروں کی پیروی کرنی چاہئے ۔ ؟ کیا ہماری اپنی کوئی ثقافت نہیں ؟ یونیورسٹیوں میں منشیات کا استعمال اتنا عام ہوچکا ہے کہ یہیں سے ہمارے معاشرے کی بگاڑ کا اندازہ لگایا جاسکتا ہیں ۔ عام طور پر تعلیم یافتہ نوجوانوں کو تہذیب
یافتہ گردانا جاتا ہیں مگر یہاں تو معاملہ ہی الٹا چلا آرہا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ منشیات کے استعمال پر یونیورسٹیوں میں پابندی کیوں نہیں لگتی ؟ اور ہمارے تعلیمی نظام میں ایسی کوئی خوبی کیوں نہیں جو طلباء کو اس طرح کے کاموں سے روک سکے ۔ ہم تب تک پاکستان میں صحیح تعلیمی انقلاب نہیں لاسکتے جب تک ہم پورے ملک میں ایک ہی تعلیمی نظام نافذ نہیں کرتے ۔ اس حوالے سے سنجیدگی کے ساتھ اقدامات کرنے ہوگے اور طلباء کو عملی تعلیم سکھانا ہوگا۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ ملکی حالات کے مطابق ہمیں ایک ذمہ دار شہری کی طرح رہنا ہوگا جو بدقسمتی سے ہمار ا تعلیمی نظام ہمیں نہیں سکھاتا۔ 
نوید غازی

میرا یہ تحریر اخبار حق اسلام آباد میں بتاریخ 27اپریل 2017 شائع کیا گیا ۔


0 comments:

Post a Comment